سرکارِ دو جہاں ہی رب کے حبیب ہیں
جو جان سے زیادہ دل کے قریب ہیں
کرتے ہیں جان قرباں بردے حضور پر
کہتے ہیں لوگ جن کو بندے عجیب ہیں
اس بحرِ عشق میں دل مانے نہ خرد کی
لمحاتِ وصل حب میں لگتے زبیب ہیں
بادِ صبا نبی کے اُن سے پیام لا
ہادی مدینے والے میرے طبیب ہیں
شاہوں سے بڑھ کے رتبہ اُن کے غلام کا
گو خوش ہیں گودڑی میں لگتے غریب ہیں
بن قیل و قال ہمدم کرتے کلام ہیں
امت میں مصطفیٰ کی ایسے خطیب ہیں
یادیں حبیبِ رب جو من میں سجی رہیں
فضلِ خدا سے ہی یوں ملتے نصیب ہیں
اُن کی اَدا پہ راضی محمود کبریا
ثابت ہے مصطفیٰ ہی رب کے لبیب ہیں

0
1
4
یہ نعت حضور ﷺ کی شانِ محبوبیت اور مقامِ قربِ الٰہی کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے سب سے پیارے ہیں اور اہلِ ایمان کے دلوں کے قریب ترین ہیں۔

اشعار میں عشقِ رسول ﷺ کی گہرائی ظاہر ہوتی ہے، جہاں عاشق اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں اور محبت میں عقل کی حیثیت کم ہو جاتی ہے۔ حضور ﷺ کو ہادی، طبیب اور سکونِ دل کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ آپ ﷺ کے غلاموں کا مرتبہ دنیاوی بادشاہوں سے بھی بلند بتایا گیا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر سادہ اور غریب کیوں نہ ہوں۔ آخر میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حضور ﷺ اللہ کے نزدیک نہایت معزز، دانا اور برگزیدہ ہیں۔

خلاصہ:
یہ نعت حضور ﷺ کی محبت، عظمت اور اُنؐ کے غلاموں کے بلند روحانی مقام کو خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔

0