| سرکارِ دو جہاں ہی رب کے حبیب ہیں |
| جو جان سے زیادہ دل کے قریب ہیں |
| کرتے ہیں جان قرباں بردے حضور پر |
| کہتے ہیں لوگ جن کو بندے عجیب ہیں |
| اس بحرِ عشق میں دل مانے نہ خرد کی |
| لمحاتِ وصل حب میں لگتے زبیب ہیں |
| بادِ صبا نبی کے اُن سے پیام لا |
| ہادی مدینے والے میرے طبیب ہیں |
| شاہوں سے بڑھ کے رتبہ اُن کے غلام کا |
| گو خوش ہیں گودڑی میں لگتے غریب ہیں |
| بن قیل و قال ہمدم کرتے کلام ہیں |
| امت میں مصطفیٰ کی ایسے خطیب ہیں |
| یادیں حبیبِ رب جو من میں سجی رہیں |
| فضلِ خدا سے ہی یوں ملتے نصیب ہیں |
| اُن کی اَدا پہ راضی محمود کبریا |
| ثابت ہے مصطفیٰ ہی رب کے لبیب ہیں |
معلومات