شہے کونین آیا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
بڑے ارمان لایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
نبی جانِ سخا سرور کریمِ دو سریٰ دلبر
بڑی چوٹیں میں کھایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
لگی امید ہے شاہا ابر رحمت کے ہیں اس جا
بُری عادات پایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
شہا سائل میں بخشش کا سوالی ہوں سخی در کا
میں سر اپنا جھکایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
سخی میرے حسیں داتا کرم ہو آل کا صدقہ
ستم اس جاں پہ ڈھایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
زیاں شیوہ بنا میرا کرم مانگوں سدا تیرا
میں خود اپنا ستایا ہوں حبیبی یا رسول اللہ
دکھاؤں گا یہ منہ کیسے سنیں جانم دلی دکھڑے
غمِ فرقت کی مایہ ہوں حبیبی یا رسول اللہ
نظر محمود پر کر دیں کریما جھولیاں بھر دیں
تخیل میں جو آیا ہوں حبیبی یا رسول اللہ

1
4
جامع خلاصہ

یہ نعت ایک گنہگار عاشقِ رسول ﷺ کی دلی فریاد ہے، جو اپنی کمزوریوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی بارگاہِ رحمت میں حاضر ہوتا ہے۔ اور نہ اپنے اعمال پر ناز کرتا ہے اور نہ کسی استحقاق کا دعویٰ، بلکہ صرف عشق، ندامت اور امید کو زادِ راہ بناتا ہے۔
یہ نعت ہمیں سکھاتی ہے کہ چاہے انسان کتنا ہی ٹوٹا ہوا کیوں نہ ہو، درِ مصطفی ﷺ سے مایوس لوٹنا ممکن نہیں۔

0