میں نے پوچھا کہ یہ جفا کیا ہے
اس نے ہنس کر کہا وفا کیا ہے
جس کو سمجھا متاعِ جاں میں نے
اس نے آخر مجھے دیا کیا ہے
تیری محفل میں سب ترے تھے مگر
اپنی قسمت میں فاصلہ کیا ہے
میں نے مانا کہ تو نہیں میرا
تیرا پھر بھی یہ آسرا کیا ہے
زخم سینے میں چھپ گئے لیکن
چشمِ نم نے یہ کہہ دیا کیا ہے
تیری یادوں کے ساتھ زندہ ہوں
اَور اس درد کی دوا کیا ہے
میں نے چاہا تجھے بے حد جانم
تو نے بدلے میں دی سزا کیا ہے
جس نے توڑا ہے میرے خوابوں کو
وہ ہی پوچھے ہے ماجرا کیا ہے
دل کی آواز تو نے کب سمجھی
اب یہ شکوہ یہ التجا کیا ہے
ہم نے دنیا سے کچھ نہیں مانگا
تیرے در کے سوا رکھا کیا ہے
حسَن اس بے وفا کی محفل میں
اپنے ہونے کا مدّعا کیا ہے

0