ہیں شانیں نبی کی خلق میں نرالی
گیا جن کے در سے عدو بھی نہ خالی
وہ دیتے ہیں سب کو دلوں کی مرادیں
ہیں شاہِ عجم جو عرب کے ہیں والی
ہے جنت نبی کی وہ فردوس والے
جو جا ہے حقیقت نہیں ہے خیالی
نبی کے یہ بردے ہیں زینت ارم کی
یہ دیکھو نرالی جو شاں ہے بلالی
حسیں عید میری سدا دید اس کی
ہے مسجد نبی میں سنہری جو جالی
کہاں ہے دہر میں سجن مصطفیٰ سا
وہ یکتا خلق میں دہر میں مثالی
نہیں مثل رکھتے مثالوں میں آقا
علیٰ درجے اُن کے وہ رتبے میں عالی
شہنشاہِ ہستی وہ داتا دہر کے
ہے محمود ہستی انہی کی سوالی

0
1