کہوں کیا اب پرانی ہو گئی ہے
محبت بس کہانی ہو گئی ہے
وفا کو جس قدر دھکے پڑے ہیں
یہ گڑیا بھی سیانی ہو گئی ہے
ہمیں بھی درد کہنا آ گیا اب
خدا کی مہربانی ہو گئی ہے
چمن میں وہ تعصب ہے کہ دیکھو
کلی حیرت سے پانی ہو گئی ہے
مبارک ہو شہیدو!، تم کو حاصل
حیاتِ جاودانی ہو گئی ہے

0
1