| محض لفظوں کی تو سوغات نہیں ہوتی ہے |
| دل جو دھڑکے نہ تو وہ بات نہیں ہوتی ہے |
| تیری خاموشی سے ڈرتا ہوں میں اس درجے کہ اب |
| مجھ سے خود اپنی ملاقات نہیں ہوتی ہے |
| ایک بستی ہے جو سنسان پڑی ہے مجھ میں |
| اس جگہ دھوپ ہے، اب رات نہیں ہوتی ہے |
| کیسے کہہ دوں کہ مرا کوئی نہیں ہے ہمدم |
| کیا جدائی مری ہم ذات نہیں ہوتی ہے؟ |
| میں تو دریا ہوں، سمندر میں اتر جاؤں گا |
| میری صحرا سی تو اوقات نہیں ہوتی ہے |
| آئینہ دیکھ کے رو پڑتا ہوں اکثر عادل |
| ورنہ ایسوں کی یہ اوقات نہیں ہوتی ہے |
معلومات