| پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی |
| نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی |
| تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں |
| تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی |
| نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی |
| ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی |
| نہیں کوئی غرض مجھ کو، زمانے کے جھمیلوں سے |
| مجھے پینے پلانے سے، یہاں ہے کام اے ساقی |
| مجھے دیوانہ کہتا ہے، یہ سارا ہی زمانہ اب |
| لگایا ہے محبت کا، نیا الزام اے ساقی |
| قضا آئے اگر مجھ کو، تو ہو یہ آخری خواہش |
| مروں بھی تو لبوں پر ہو، ترا ہی نام اے ساقی |
| بپا ہو گی قیامت، اک قیامت سے بھی پہلے ہی |
| مری بے تابیوں کا شادؔ، ہو انجام اے ساقی |
معلومات