ناکام سے اک عشق میں رجحان باقی رہ گئے
پھر پاس میرے یادوں کے سامان باقی رہ گئے
اک شخص قسمت میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں
پھر بھی اسی کے ملنے کے امکان باقی رہ گئے
ملتی نہیں کوئی رہائی ان غموں سے کیوں مجھے
اب زندگی میں کونسے بحران باقی رہ گئے
اس زندگی کو جینے کا انداز بھی بھر پور تھا
ایسا لگے دل میں کوئی ارمان باقی رہ گئے
انسان کو دیکھا نہیں انسانوں والے روپ میں
فرعون کی اولاد اور شیطان باقی رہ گئے

0
6