سجے ہیں جو گلشن ولادت ہے اُن کی
ملے یہ نظارے عنایت ہے اُن کی
فضائے دہر میں حسیں نور پھیلا
ملائک نے پائی بشارت ہے اُن کی
گرے منہ کے بل ہیں یہ طاغوت سارے
جگیں دیپ نوری علامت ہے اُن کی
ہیں قلبِ جہاں پر محبت کے غلبے
یہ احساں خدا کا شہادت ہے اُن کی
ہلا قصرِ کسریٰ ہے قیصر بھی حیراں
زیاں کے جہاں پر یہ ہیبت ہے اُن کی
ہے وادیء فاراں یوں پُر نور ساری
بڑی شان والی سیادت ہے اُن کی
ہے محمود سالارِ اعظم کی آمد
جہانوں میں عمدہ قیادت ہے اُن کی

0
1