| کتاب کھلتی تو وہ رات بھر نہیں سوتی |
| کبھی وہ دودھ، کبھی چائے لے کے آتی تھی |
| میں اپنے کل کی عبارت سمجھنے بیٹھتا تھا |
| وہ میرے آج کی ہر بے کلی مٹاتی تھی |
| بلند خواب تھے اس کے، مگر عجب تھی وہ ماں |
| کہ اپنی خواہشوں کا بوجھ خود اٹھاتی تھی |
| ہماری جیت پہ چپ چاپ ناز کرتی تھی |
| مگر وہ ناز بھی ہم سے چھپا کے رکھتی تھی |
| کبھی نتیجے سے پہلے وہ خواب دیکھتی تھی |
| پھر اس یقین سے ہم کو خبر سناتی تھی |
| ہمیں تو اپنے ہی امکان پر تعجب تھا |
| وہ ہم سے پہلے ہمیں کامیاب جانتی تھی |
| اب اس کے بعد کئی امتحاں بھی گزرے ہیں |
| کوئی بھی فتح، کوئی مرتبہ، کوئی اعزاز |
| مگر یہ آج بھی ہوتا ہے، کوئی خوش خبری |
| تو دل میں اٹھتی ہے بے اختیار اک آواز |
| کہ ماں کو جا کے بتاؤں، بہت خوش ہو گی |
| - - - - - - - - - |
| پھر جیسے پَل میں ہی پندرہ برس گزر جائیں |
معلومات