اسے کہنا محبت میں تباہی اب نہیں ہو گی
وفا اس شرط پر کرنا جدائی اب نہیں ہو گی
گلہ کرتے بھی کیا بلبل بہارؤں کے تٖغافل سے
قفس گر کھل بھی جائیں تو رہائی اب نہیں ہو گی
در و دیوار کے تو ہے علاوہ کچھ نہیں گھر میں
اگر جل جاۓ گھر بھی تو تباہی اب نہیں ہو گی
تمھارے بعد لوگوں سے مجھے ملنا تو پڑتا ہے
کسی سے مل بھی لوں تو آشنائی اب نہیں ہو گی
گئیں جب حسرتیں دم توڑ میرے دل کے مقتل میں
دلِ بے فیض کی فیضاں تباہی اب نہیں ہو گی
فیضان حسن طاہر بھٹی

7
450
فیضان صاحب ایک وقت تھا کہ ہم وفا اور جفا کی مذکر مؤنث ہونے پہ بحث کرتے رہے اور ایک آج ہے - ماشاللہ
آپ نے زبان و بیان کی غلطیوں پر کافی کام کر لیا ہے - اب شعر اس سے بھی آگے کی چیز ہوتا ہے - اس طرف اشارہ کرتا ہوں-
- ایک چیز ہوتی ہے ضعفِ ردیف - یعنی شاعر اپنی ردیف کو اپنے مصرعے سے مطابقت نہ دے سکے۔ یہاں اکثر وہی صورت ہے
اسے کہنا محبت میں تباہی اب نہیں ہوتی
وفا کرنی اگر ہو تو جدائی اب نہیں ہوتی
"اب نہیں ہوتی" کا مطلب ہے پہلے کبھی ہوتی تھی پر آج کل نہیں ہوتی۔ تو آپ کو ہر مضمون ایسا لانا ہو گا جس پر یہ بات پوری اترے۔ آپ مصرع دیکھیں وفا کرنی اگر ہو تو جدائ اب نہیں ہوگی۔ مطلب پہلے کبھی وفا کرنے پہ جدائ ہوتی تھی مگر اب نہیں ہوگی۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

گلہ کرتے نہیں بلبل خزاؤں کے یہ موسم سے
بہاروں میں تو بلبل کو رہائی اب نہیں ہوتی
-- مطلب پہلے کبھی بلبل کو بہاروں میں رہائ ہوتی تھی اب نہیں ہوتی - اس بات کا خزاں سے کیا تعلق ہے ؟

دلوں میں ہو نہ نفرت تو کسی کا ڈر نہیں مجھ کو
اگر جل جاۓ گھر بھی تو تباہی اب نہیں ہوتی
مری باتیں مرے انداز لگتے ہیں پرانے سب
اسے ملتا ہوں لیکن آشنائی اب نہیں ہوتی
گئیں سب حسرتیں دم توڑ اس دنیا کے مقتل میں
مرے فیضان دل کو پھر اگاہی اب نہیں ہوتی

اس کلیۓ پر ہر شعر کو پرکھیۓ اور خود ہی دیکھ لیجۓ کہ صحیح ہے یا نہیں

اور ہاں - لفظ آگاہی کو وزن میں لانے کے لۓ اگاہی نہیں کر سکتے یہ غلط ہے


0
اللہ آپ کو عمردراز عطا کرے۔
بہت بہت شکریہ بھائی جان مزید بہتر کر نے کی کوشش کرتا ہوں شکریہ
دعا ہے اللہ سے علم نافع عطا کرے۔۔


0
بھائی جان اب دیکھیں آگے سے کیا بہتر ہے

اسے کہنا محبت میں تباہی اب نہیں ہو گی
وفا کرنی اگر ہو تو جدائی اب نہیں ہو گی
گلہ کرتے کیا بلبل بہارؤں کے یہ موسم سے
شکاری پنجرے سے جب رہائی اب نہیں ہو گی
دلوں میں ہو نہ نفرت تو کسی کا ڈر نہیں مجھ کو
اگر جل جاۓ گھر بھی تو تباہی اب نہیں ہو گی
مری باتیں مرے انداز لگتے ہیں پرانے سب
اسے ملتا ہوں لیکن آشنائی اب نہیں ہو گی
گئیں سب حسرتیں دم توڑ جب دنیا کے مقتل میں
مرے فیضان دل کی پھر تباہی اب نہیں ہو گی
فیضان حسن طاہر بھٹی


0
فیضان صاحب - میں نے تو آپ کو پریشان ہی کر دیا ہے ۔
دیکھیے جناب میری پسند نہ پسند کو معیار نہ بنائیں - میرا سوچنے کا انداز بھی تھوڑا مختلف ہے اور میں شعر میں خیال کو بے حد اہمیت دیتا ہوں۔ ضروری نہیں کہ سب ایسا سوچیں۔
آپ کو صحیح لگے تو صحیح ہے کیونکہ اس میں زبان کی غلطیاں نہیں ہیں۔ مجھ سے کیوں مین میخ نکلواتے ہیں۔

0
سلام وعلیکم بھائی جان۔
میں خود چاہتا ہوں آپ میری اصلاح کریں بھائی جان میں اصل میں اٹلی ہوں اس سے پہلے آٹھ ملکوں سے ہوتا ہوا ادھر آیا ہوں ترکی بھی تین سال گزارے ہیں جسکی وجہ سے مسکچر بنا ہوا ہے زبانوں کا جسکی وجہ سے مجھے بہت مسائل لکھنے میں آتے ہیں ۔یہ تو میری خوش قسمتی ہے آپ جیسا بھائی ملا اور میری اصلاح کر رہے ہیں یہ تو آپ کی مہربانی ہے بھائی جان ۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ اصلاح میری کرتے ہیں ۔
اللہ پاک مزید آپکو علم نافع عطا کرے۔

0
فیضان بھائ - اس غزل پر آخری بار تبصرہ کرتا ہوں تا کہ آپکو اندازہ ہو کہ میں کیوں اجتناب کر رہا ہوں۔

دیکھیے جناب اب یہ غزل اس مقام پہ ہے جہاں شاعر اسے صحیح ثابت کر سکتا ہے مرا کچھ کہنا مری راے ہوگی جو کہ مری زاتی پسند نا پسند ہوگی۔ اس سے آگے اس پہ مری اصلاح یوں ہو گی کہ میں اسے خود ہی لکھ بیٹھوں

دیکھے میری دانست میں مصرعے ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کر رہے مگر آپ کو لگ رہا ہے کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے - میری مرضی کیوں؟

میں اب اس پہ آخری بار صرف اس طرح تبصرہ کر سکتا ہوں کہ میں آپ کو یہ خود لکھ کے دیتا ہوں کہ میں لکھتا تو اس طرح لکھتا - اسے دیکھ کر اندازہ کر لیں کہ مجھے کیوں یہ صحیح نہیں لگی اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہ سکتا۔

اسے کہنا محبت میں تباہی اب نہیں ہو گی
وفا اس شرط پر کرنا جدائی اب نہیں ہو گی
گلہ کرتے بھی کیا بلبل بہارؤں کے تٖغافل سے
قفس گر کھل بھی جائیں تو رہائی اب نہیں ہو گی
در و دیوار کے تو ہے علاوہ کچھ نہیں گھر میں
اگر جل جاۓ گھر بھی تو تباہی اب نہیں ہو گی
تمھارے بعد لوگوں سے مجھے ملنا تو پڑتا ہے
کسی سے مل بھی لوں تو آشنائی اب نہیں ہو گی
گئیں جب حسرتیں دم توڑ میرے دل کے مقتل میں
دلِ بے فیض کی فیضاں تباہی اب نہیں ہو گی

0
واقعی بھائی جان میں سمجھ گیا واقعی ہمارے لکھنے میں اور آپ کے لکھنے میں بڑا فرق ہے آپ واقعی استاد ہیں اسکام کے ۔اور آپ کی علم کی بصیرت بھی وسیع ہے ۔اللہ آپ کو مزید علم نافع عطا کرے ۔ہمارے پاس تو ایسے الفاظ بھی نہیں کہ آپ کا شکریہ ادا کر سکوں۔

0