لے جا نسیمِ طیبہ میرا سلام ہے
دیتا پیام تم کو یہ اُن کا غلام ہے
مشکل ترین ہجر میں لمحات کا گزر
پورے ادب سے عرض یہ کرنا پیام ہے
دربارِ مصطفیٰ ہے یہ ہوش و حواس رکھ
ہے دیکھنا غلاموں میں آتا جو نام ہے
کہنا کہ دوریوں پہ جو اُن کے اسیر ہیں
اس جا بھی یادِ مصطفیٰ بالائے بام ہے
ذکرِ نبی سے تاباں ہے کونین کا وجود
قاسم عطائے یزداں جو عالی مقام ہے
آقا حبیب کبریا مقصودِ کائنات
یومِ نشور مصطفیٰ خیر الانام ہے
محمود تارِ دہر میں مدراب مصطفیٰ
ملتی کریم در سے یوں خیراتِ عام ہے

0
1