| بن مانگے تمنا پوری ہو یوں کرم کریمی کرتے ہیں |
| ہم نام جو لیں وہ رحمت سے دامانِ طلب کو بھرتے ہیں |
| سرکار کے در کا رستہ ہی بندے کو ملائے مولا سے |
| جو اُن سے جُڑے پروان چڑھے جو جڑھ سے کٹے وہ گرتے ہیں |
| اس یادِ حبیبِ سرور سے ہر چمن میں زینت آتی ہے |
| پھر نور کے دریا مولا سے آکاش میں چلتے پھرتے ہیں |
| ہے گلشنِ طیبہ کی مٹی جو بخت بڑے چمکاتی ہے |
| ہیں ابرِ کرم سرکار سے جو وہ رحمت والے ہوتے ہیں |
| ہر سمت فضاؤں میں برکت جب در سے ہوائیں چلتی ہیں |
| ہم درد کے مارے آتے ہیں وہ زخم ہمارے بھرتے ہیں |
| ہر رونق جن کی ہمت سے احسان ہیں اُن کی عظمت کے |
| ہم فیض سے اُن کے جیتے ہیں اور دان سے اُن کے کھاتے ہیں |
| یہ شانِ کرم کے صدقے ہیں جو نامِ نبی ہم لیتے ہیں |
| ویران دلوں صحرا میں جب پھول عطا کے کِھلتے ہیں |
| محمود نبی کے گلشن سے باران عطا کے آتے ہیں |
| جب ذکر ہو رحمتِ عالم کا درِ جود و سخا پھر کُھلتے ہیں |
معلومات