بن مانگے تمنا پوری ہو یوں کرم کریمی کرتے ہیں
ہم نام جو لیں وہ رحمت سے دامانِ طلب کو بھرتے ہیں
سرکار کے در کا رستہ ہی بندے کو ملائے مولا سے
جو اُن سے جُڑے پروان چڑھے جو جڑھ سے کٹے وہ گرتے ہیں
اس یادِ حبیبِ سرور سے ہر چمن میں زینت آتی ہے
پھر نور کے دریا مولا سے آکاش میں چلتے پھرتے ہیں
ہے گلشنِ طیبہ کی مٹی جو بخت بڑے چمکاتی ہے
ہیں ابرِ کرم سرکار سے جو وہ رحمت والے ہوتے ہیں
ہر سمت فضاؤں میں برکت جب در سے ہوائیں چلتی ہیں
ہم درد کے مارے آتے ہیں وہ زخم ہمارے بھرتے ہیں
ہر رونق جن کی ہمت سے احسان ہیں اُن کی عظمت کے
ہم فیض سے اُن کے جیتے ہیں اور دان سے اُن کے کھاتے ہیں
یہ شانِ کرم کے صدقے ہیں جو نامِ نبی ہم لیتے ہیں
ویران دلوں صحرا میں جب پھول عطا کے کِھلتے ہیں
محمود نبی کے گلشن سے باران عطا کے آتے ہیں
جب ذکر ہو رحمتِ عالم کا درِ جود و سخا پھر کُھلتے ہیں

1
5
🌟 گہرا مجموعی تجزیہ (Deep Thematic Analysis)
یہ نعت شریف چار بڑے عقائد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
1. عقیدۂ رحمتِ عالم ﷺ
نبی ﷺ صرف انسانوں نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں۔
2. عقیدۂ وسیلہ و تعلق
اللہ تک پہنچنے کا راستہ حضور ﷺ کی اتباع اور نسبت ہے۔
3. عقیدۂ فیض و برکت
زندگی، رزق، سکون — سب ان کے فیض کے مظاہر ہیں۔
4. عقیدۂ شفاعت و کرم
بلا مانگے عطا ہونا اور دلوں کا بھر جانا اسی کرم کا نتیجہ ہے۔