تیرا چہرہ جدا نہیں ہوتا
َ اب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
َ غم کا در وا ذرا نہیں ہوتا
َ دل کسی سے جدا نہیں ہوتا
َ عشق میں فیصلہ نہیں ہوتا
َ کوئی بھی لب کشا نہیں ہوتا
تیری یادوں کا سلسلہ گویا
لمحہ بھر کو جدا نہیں ہوتا
دل کی دھڑکن میں تم دھڑکتے ہو
سلسلہ یہ فنا نہیں ہوتا
کچھ نہ دیکھا ترے بغیر اے دوست
منظروں میں مزہ نہیں ہوتا
درد دل کا بیاں کروں کس سے
مصلحت کا بھلا نہیں ہوتا
تیری صورت لگی ہے آنکھوں میں
صبر اب تو ذرا نہیں ہوتا
آرزو ہے کہ اب ترے در پر
سر جھکے اور اٹھا نہیں ہوتا
عرضِ مضطر سنے گا کیوں عادل
بت تو کوئی خدا نہیں ہوتا

0
2