| دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے، محفل ایک سجائی ہے |
| اصل میں ہم سب تنہا ہیں، یہ بھی کیسی تنہائی ہے؟ |
| سامنے بیٹھے اپنوں سے اب بات نہیں کوئی کرتا ہے |
| ایکس کی اس نگری میں پر، ہر کوئی آہیں بھرتا ہے |
| لائکس اور کمنٹس کی خاطر، جذبوں کا بیوپار ہوا |
| اک تصویر کی خاطر بس ہر کوئی جان نثار ہوا |
| گھر کے در ویران پڑے ہیں، رشتوں میں دیواریں ہیں |
| اسپیسی رونق کے پیچھے، اک دوجے کی لگی آنکھیں ہیں |
| صبح سے لے کر شام تلک بس، انگلیاں چلتی رہتی ہیں |
| آنکھیں تھک کر سو جاتی ہیں، سانسیں چلتی رہتی ہیں |
معلومات