ریت نے نام مرا کیسے بچایا ہو گا
رات لہروں نے کئی بار مٹایا ہو گا
کون ہو تم؟ یہ نہ پوچھو، تمہیں معلوم تو ہے
جس نے آنا تھا وہی لوٹ کے آیا ہو گا
گھر کے آنگن میں نئی آج یہ دیوار ہے کیوں
باپ نے گھر تو محبت سے بنایا ہوگا
قبر بے نام سہی، پھول تو تازہ ہیں ابھی
کوئی پہچاننے والا بھی تو آیا ہوگا
ایک بچہ مجھے تصویر میں پہچان گیا
ماں نے شاید مرا قصہ بھی سنایا ہوگا
آئنے آج مجھے دیکھ کے چپ کیوں ہیں سبھی
میں نے چہرہ کہیں رستے میں گنوایا ہو گا
خط میں بس نام مرا رہ گیا، باقی خالی
اس نے سب لکھ کے کئی بار مٹایا ہوگا
راکھ کا ڈھیر بنا کیوں میں، بتاؤں شاہدؔ
مجھ کو دن رات کسی نے تو جلایا ہوگا

0
6