مسافر مدینے کا جب کوئی جائے
تڑپتے ہوئے دل کی دھڑکن سنائے
عقیدت سے سر کو جھکائے، بتائے
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
وہاں جب نظر سبز گنبد پہ ٹھہرے
خوشی کے ابلنے لگیں دل میں چشمے
ادب سے، حیا سے، گرا کے یہ آنسو
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
یہ کہنا کہ آقاﷺ، بلائیں ہمیں بھی
مقدر کا تارا دلائیں ہمیں بھی
پریشان حالوں کا، بے آسرا کا
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
ہے دوری کا غم اب تو حد سے زیادہ
سسکتا ہے دل، آرزو ہے زیادہ
جو پہنچا نہیں ہے تمہارےﷺ ہی در پر
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
دعا ہے کہ گزرے یہ عمرِ گریزاں
شریعت کی راہوں پہ ہو کر غزل خواں
لبوں پر ہو ہر دم تمہارا ہی کلمہ
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
دکھا دو مدینے کی گلیاں الٰہی
ملے دیدِ روضہ کی اب تو گواہی
خدا کے لیے اس تڑپتے ہوئے کا
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا

0
2