قلم کو ہاتھ سے رکھنا پڑا کہ اب کے بار
سیاہی پھیل گئی تھی تمام کاغذ پر
​بجا ہے شکوہِ تقدیر، پر یہ دکھ بھی ہے
کہ داغ بن کے رہا تھا قیام کاغذ پر
​لکھا تھا جو بھی، وہ اب تیرگی کا حصہ ہے
ہوا ہے دفن مرا ہر کلام کاغذ پر
​عجیب پیاس تھی جس نے نگل لیا سب کچھ
تڑپ رہا ہے ابھی تشنہ کام کاغذ پر
​ہزار بار مٹایا، ہزار بار لکھا
مگر نہ دکھ کا ہوا، اختتام کاغذ پر
​عجیب موڑ پہ لائی ہے نامرادی ہمیں
کہ ہو رہا ہے کہیں قتلِ عام کاغذ پر
​تمہارے بس میں اگر ہے تو چھین لو کاغذ
رقم ہے میرا ابھی انتقام کاغذ پر
​جھکائے سر کو جو بیٹھیں، وہ اور ہوں گے لوگ
لکھا ہے ہم نے اپنا دوام کاغذ پر
​میں وہ لکیر ہوں عامرؔ جو مٹ نہیں سکتی
کہ نقش چھوڑ گیا میرا نام کاغذ پر

0
7