ایک ہی چھت کے تلے آباد سب
اپنے اپنے حال میں برباد سب
ایک سچ بولا تو محفل چھٹ گئی
جھوٹ پر ہوتے رہے دلشاد سب
اپنے اپنے خوف کے پیچھے چھپے
دیکھنے میں تھے بہت آزاد سب
خود بنائی تھیں یہ زنجیریں سبھی
ڈھونڈتے پھر بھی رہے صیاد سب
اپنی اپنی بات سچ مانے رہے
جس سے بڑھنے لگ گئے فساد سب
وقت آیا تو کوئی آگے نہ تھا
باتوں باتوں میں ہی تھے فولاد سب
ایک دستر خوان پر بیٹھے تھے ہم
اپنی اپنی تھی مگر فریاد سب
گھر میں کافی روشنی تو تھی مگر
اپنے اپنے کمروں میں ناشاد سب
اپنی تنہائی چھپانے کے لیے
کر رہے ہیں روز اک ایجاد سب
شاہدؔ آخر خود پہ بھی نظریں پڑیں
اپنے اپنے طور پر جلاد سب

0
5