| پردیس کی شام |
| تم نے لکھا ہے مرے نام کہ ہر شام ڈھلے |
| اک تھکا جسم سمیٹے دل بوجھل کو لئے |
| تم نکلتے ہو جو دفتر سے گھر کے لیے |
| گھر کہ بیگانہ ہے پردیس میں خود اپنے لیے |
| جس کے رستے میں چمکتے ہوئے سڑکوں کے دئے |
| اور بھی تم کو غمناک کیے دیتے ہیں |
| مرکز شہر میں بکھرے ہوئے لوگوں کے ہجوم |
| قہقہے سر خوش و سرشار جوانوں کے |
| دل سے لپٹی ہوئی بے رحم اداسی پر |
| غم و حسرت کی نئی تہہ بچھا دیتے ہیں |
| تم نے لکھا ہے کہ میناروں سے مسجد کے |
| گونج کر اٹھتی بکھرتی ہوئی اذانِ شام |
| جس گھڑی تیری سماعت سے ٹکراتی ہے |
| تم کو بے خود کیے دیتی ہے تڑپاتی ہے |
| روح میں رقص کناں غم کی سرکش لہریں |
| اپنے گھر اپنے محلے کی طرف کھینچتی ہیں |
| وطن گم گشتہ کی یاد جگا کر دل میں |
| بے کس و مجبور و لا چار بنا دیتی ہیں |
| تم کو کچھ اور تھکا دیتی ہیں |
| تم نے تو ایسے ہی وقت کی نسبت سے |
| کہہ دیا مغرب کی اذاں کو اذانِ شام |
| لیکن اس لفظ نے مجھ پر یہ قیامت ڈھا دی |
| مجھ کو دکھلا دئے احوالِ غریب الوطنی |
| مجھ کو بتلا دیا کس طرح تمہارے دن |
| درد کی راہ سے کرب و بلا سے ہو کر |
| تم کو لے آتے ہیں شام کے دروازے پر |
| شام ڈھلتی ہے، شامِ دمشق کی مانند |
| ٹوٹ پڑتی ہے کوئی شامِ غریباں ہو کر |
| ٹوٹ پڑتی ہے کوئی شامِ غریباں ہو کر |
معلومات