| حسیں نعت اُن کی سجے لب پہ مولا |
| ملے رتبے جن کو جہانوں میں اعلیٰ |
| تھے طاغوت کے جو مٹے رنگ سارے |
| گئی ظلمتیں ہیں گراں ہے اُجالا |
| جہاں میں ہیں پھیلیں درخشانیاں اب |
| خلق کے دلوں کو ہے مژدہ نرالا |
| ہوئی راہیں تاباں ہیں باغِ جناں کی |
| ملے اس ڈگر پر نبی سے سنبھالا |
| عُلیٰ ذکرِ جاناں ہے کونین میں یوں |
| دو عالم میں اُن کا ہوا بول بالا |
| کرم ہیں نبی کے خدائی پہ ہر دم |
| ہے ذکرِ نبی نے مصیبت کو ٹالا |
| ہیں محمود آقا جہانوں پہ رحمت |
| ہے درجہ انہی کا دہر میں نرالا |
معلومات