حسیں نعت اُن کی سجے لب پہ مولا
ملے رتبے جن کو جہانوں میں اعلیٰ
تھے طاغوت کے جو مٹے رنگ سارے
گئی ظلمتیں ہیں گراں ہے اُجالا
جہاں میں ہیں پھیلیں درخشانیاں اب
خلق کے دلوں کو ہے مژدہ نرالا
ہوئی راہیں تاباں ہیں باغِ جناں کی
ملے اس ڈگر پر نبی سے سنبھالا
عُلیٰ ذکرِ جاناں ہے کونین میں یوں
دو عالم میں اُن کا ہوا بول بالا
کرم ہیں نبی کے خدائی پہ ہر دم
ہے ذکرِ نبی نے مصیبت کو ٹالا
ہیں محمود آقا جہانوں پہ رحمت
ہے درجہ انہی کا دہر میں نرالا

0
1
5
✦ جامع خلاصہ
یہ نعت چند مرکزی روحانی حقیقتوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے:
نعت و ذکرِ رسول ﷺ خود بلندی کا ذریعہ ہے
آپ ﷺ کی آمد سے باطل مٹا اور نور غالب آیا
دلوں میں ایمان، سکون اور روشنی پیدا ہوئی
جنت کا راستہ واضح ہوا اور اس میں اصل سہارا یہی نسبت ہے
ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کائنات میں غالب اور ہر جگہ جاری ہے
یہ ذکر مصیبتوں کو دور کرنے اور دل کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے
آپ ﷺ کا مقام تمام جہانوں سے بلند اور بے مثال ہے

مختصر یہ کہ یہ نعت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ زندگی کی اصل روشنی، نجات کا راستہ، اور دل کا سکون—all اسی نسبت میں پوشیدہ ہے۔

0