| کبھی ملتے تھے مدثر بہ جنونِ جذبات |
| ہیں روا ربط مگر اب کے بدونِ جذبات |
| ۔ |
| جس کے گارے میں ہی شامل ہوا فقدانِ یقین |
| گر ہی جاتا ہے پھر اس گھر کا ستونِ جذبات |
| ۔ |
| بے اثر ہے ورقِ دل پہ یہ تحریر مری |
| روشنائی میں جو شامل نہ ہو خونِ جذبات |
| ۔ |
| آگہی سے ہیں حقیقت کی وہ آنکھیں محروم |
| جن پہ ہو پردۂ اوہام و فسونِ جذبات |
| ۔ |
| ایک مدت سے کنارے نہیں لگنے دیتی |
| مثلِ طوفان ہے اک موج درونِ جذبات |
معلومات