بتاؤں کس لیے وہ بد حواس بیٹھے ہیں؟
کسی کا ڈر نہیں، بیوی کے پاس بیٹھے ہیں
پسند آتے ہیں اشعار میرے سب کو مگر
وہ داد دیتے نہیں، بن کے خاص بیٹھے ہیں
ہمارے فین تو، لٹکے ہیں چھت کے ساتھ سبھی
تبھی تو اوڑھ کے سارے کپاس بیٹھے ہیں
بجا رہے تھے کبھی تالیاں رقیبوں پر
بنے ہوئے ہیں تماشہ اداس بیٹھے ہیں
نظر اٹھا کے کبھی دیکھ لو فقیروں کو
تمھاری رہ میں لیے التماس بیٹھے ہیں
کبھی گھڑی تو کبھی دیکھتے ہیں رستے کو
کسی کی آس پہ وہ میرے پاس بیٹھے ہیں
ابھی پھٹیں گے وہ غصے سے، مجھ کو لگتا ہے
ضرور لے کے وہ دل میں بھڑاس بیٹھے ہیں

0
3