یوں سادھے چپ جو ہر پل بکھر رہا ہوں میں
سمجھ رہی ہے یہ دنیا سدھر رہا ہوں میں
دیارِ غیر کے باسی نے ہے بتایا یہ
اِدھر نہیں تھی جگہ تو اُدھر رہا ہوں میں
ہوں مضمحل اے فلک کچھ مِرا خیال کرو
لگا کے زیست کا غوطہ ابھر رہا ہوں میں
کرے گی پوچھ کے کیا مجھ سے اے سحر اس پل
گزر گئی ہے وہ شب جِدھر رہا ہوں میں
بدل گئی ہے یہ دنیا، سمجھ سے باہر ہے
یہ سوچتا ہوں کہ اب تک کدھر رہا ہوں میں

0
2