کیا کبھی ظلم کی سرکار نہ بدلے گی ڈگر؟
ہر شریف آدمی اب کانپ رہا ہے تھر تھر
ہے امیروں کی تو ہر چیز نئے ماڈل کی
فکر مفلس کو ہے دو وقت کی روٹی کی مگر
ڈھونڈتا رزق پریشاں ہے وطن میں کوئی
سیر کرنے کوئی پردیس کے کاٹے چکر
اب گلی کوچے میں نادار پڑے رہتے ہیں
لوگ اچھے تھے جو ہم سائے کی رکھتے تھے خبر
یا خدا سب کے لیے رزق فراواں کر دے
پیٹ کی فکر سے آزاد ہو ہر ایک بشر

0
3