| دور ہوں مدینے سے جی نہیں لگے آقا |
| دردِ غم کو پینے سے جی نہیں لگے آقا |
| پیاس ہے نگاہوں میں دید پاک کی مولا |
| اشکِ ہجر بینے سے جی نہیں لگے آقا |
| اک جھلک ہی مل جائے سبز سبز گنبد کی |
| پھر غرض نہ جینے سے جی نہیں لگے آقا |
| موج غم نے گھیرا ہے اب تو میری ہستی کو |
| دہر کے سفینے سے جی نہیں لگے آقا |
| خاکِ پاک طیبہ ہی میرے دل کی دولت ہے |
| دنیا کے خزینے سے جی نہیں لگے آقا |
| دوستی کی صورت میں آستیں کے سانپ ہیں |
| ڈس رہے قرینے سے، جی نہیں لگے آقا |
| رکھ دیا ہے دل اپنا، آپ کی ہی چوکھٹ پر |
| گل کو اس نشینے سے، جی نہیں لگے آقا |
معلومات