ہمیشہ جستجو تیری
مُجھے ہے آرزُو تیری
بھلی لگتی ہے کانوں کو
شگفتہ گفتگو تیری
جِسے خوابوں میں دیکھا تھا
وہ صورت ہو بہو تیری
لبھاتی ہے مجھے پَل پَل
وہی خوش رنگ بُو تیری
تجھے مَیں کچھ نہیں کہتا
مُجھے ہے آبرُو تیری
مہک سی میرے آنگن میں
بسی ہے چار سُو تیری
یہی جاویدؔ ہے منشا
کروں بس گفتگو تیری

148