دل میں اک شمعِ آرزو بھی ہے
نور کی شب میں جستجو بھی ہے
تیری آنکھوں میں ڈوب کر دیکھا
ایک دریا ہے آبرو بھی ہے
عشق بس انتظار ہی تو نہیں
اس میں ملنے کی آرزو بھی ہے
ہم نے خاموشیوں کو پڑھ دیکھا
ان کی آنکھوں میں گفتگو بھی ہے
اپنے اندر اتر کے دیکھو تو
گرچہ صحرا ہے رنگ و بُو بھی ہے
جس کو دنیا سمجھ کے چھوڑ ا تھا
پھر وہی خواب روبرو بھی ہے
چشم وا کیجئے نظر آئے
وہ جو ہر آن دُو بدو بھی ہے
دل شکستہ ہوا ہے جب طارِق
درد تو ہے بہا لہو بھی ہے

0
3