| ہم ترے ساتھ چلے، خود سے جدا بھی ہوئے |
| تیرے جانے پہ مگر خود سے شناسا بھی ہوئے |
| اپنی آواز دبائی تو سکوں مل نہ سکا |
| بول اٹھے تو کئی لوگ خفا بھی ہوئے |
| جن سے امید نہ تھی، وقت پہ وہ کام آئے |
| جن پہ تکیہ تھا، وہی لوگ بے وفا بھی ہوئے |
| جس کو ہم اپنی شکستوں کا سبب کہتے تھے |
| اس کے جانے سے کئی راستے وا بھی ہوئے |
| ہم نے سمجھا تھا کہ سب لوگ تماشائی ہیں |
| چند چہرے مرے دکھ درد کی دوا بھی ہوئے |
| جن کو خاموش سمجھتے رہے محفل والے |
| وقت بدلا تو وہی حق کی صدا بھی ہوئے |
| شاہدؔ اپنی ہی انا سے نہ نکل پائے تھے |
| ایک دن ٹوٹ کے بکھرے تو رِہا بھی ہوئے |
معلومات