| صبح سے گھر سمیٹنے میں لگے |
| تم نے پردوں کو تہہ کیا پہلے |
| میں نے کھڑکی سے دھوپ اتاری تھی |
| ایک الماری کھول کر دیکھی |
| کتنے موسم تہوں میں رکھے تھے |
| کتنی آوازیں بند تھیں اس میں |
| تم نے کچھ خط نکال کر رکھے |
| میں نے کچھ قہقہے سمیٹ لیے |
| ایک تصویر اتارنی تھی ہمیں |
| جس میں ہم اب بھی مسکراتے تھے |
| اس کے پیچھے سے اک نشان ملا |
| جیسے دیوار یاد رکھتی ہو |
| شام تک گھرتھا خالی خالی سا |
| ہر طرف ایک بے صدا سی فضا |
| تم نے دہلیز سے پلٹ کے کہا |
| کچھ ہمارا یہاں رہا تو نہیں؟ |
| میں نے کمروں میں پھر نظر ڈالی |
| اور بولا ، کہ کچھ رہا ہی نہیں |
| تم نے دروازہ بند کر ڈالا |
| میں نے چابی تمہارے ہاتھ میں دی |
| کچھ قدم چل کے یاد آیا پھر |
| ایک لفظ اور رہ گیا تھا وہاں |
| لفظ «ہم» کا کوئی نہ وارث تھا۔ |
معلومات