| کرتا ہے پر خلوص یہ اصرار لکھنؤ |
| آ کے حضور دیکھیے اک بار لکھنؤ |
| دل کش بھی دل بہار بھی دلدار لکھنؤ |
| گلشن بھی گل نشین بھی گلزار لکھنؤ |
| انکھوں کو خوب لگتا ہے ہر بار لکھنؤ |
| شاہِ اَوَدھ کی شان ہے شہکار لکھنؤ |
| الفت کا آپ کی ہے یوں حقدار لکھنؤ |
| سب جانتا ہے عشق کے اطوار لکھنؤ |
| ماضی کے سب سمیٹے ہے آثار لکھنؤ |
| ہر دل عزیز صاحبِ اقدار لکھنؤ |
| اپنے ادب تمیز و تمدن کی وجہ سے |
| شہروں کے درمیاں ہوا سردار لکھنؤ |
| ہے لکھنؤ کی روح پرانے دیار میں |
| یوں تو ہے گومتی کے بھی اس پار لکھنؤ |
| جائے انیس ہے یہ دیارِ دبیر ہے |
| یوں ہی نہیں ادب کا ہے معیار لکھنؤ |
| شامِ اَوَدھ کا لمس سمیٹے ہوئے ملا |
| زندہ دلوں کے واسطے بیدار لکھنؤ |
| لہجے میں پہلے آپ کی خوشبو لیے ہوئے |
| انس و ادب خلوص کا اظہار لکھنؤ |
| وہ ہو چکن مکیش زری یا رفوگری |
| کتنے ہی فن سمیٹے ہے فنکار لکھنؤ |
| دن میں اگر ہے عید دوالی ہے رات میں |
| یعنی محبتوں کا ہے تہوار لکھنؤ |
| ہم کو یقیں نہ آیا کہ وہ لکھنؤ سے ہے |
| جب تک کہا نہ اس نے اماں یار لکھنؤ |
| ٹنڈے کباب کلچے نہاری نہ کھائے تو |
| آنا ہوا پھر آپ کا بیکار لکھنؤ |
| دامن میں اس کے اس لیے خوشیاں ہزار ہیں |
| آلِ نبی کے غم میں ہے غمخوار لکھنؤ |
| سالم جو گھر سے دور ہے کرتے ہیں آرزو |
| ہوتا رہے ترا ہمیں دیدار لکھنؤ |
معلومات