نے میکدہ نہ محفلِ رنداں ہے آج کل
مستی رہی نہ عیشِ فراواں ہے آج کل
سودائیِ ہوس تو بہت ہیں ابھی، مگر
جنسِ گرانِ عشق کا فقداں ہے آج کل
اب ہوگئی جہاں میں گراں امن و آشتی
اور کشت و خون ہوگیا ارزاں ہے آج کل
دیکھو تو سوئے لالہِ پژمردہِ چمن
کہ نوحہ خوانِ گلشنِ ویراں ہے آج کل
ساقی نہ جام ہے، نہ مئے ناب ہے یہاں
کتنا عجیب سا یہ خمستاں ہے آج کل
مدت گزر چکی تھی کہ تحسینؔ تھا خموش
اب کیا ہوا کہ پھر سے غزل خواں ہے آج کل
سید تحسینؔ حیدر بخاری

1
4
ماشاءاللہ
قبلہ شاہ صاحب
دور حاضر کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے
آپ کا یہ کلام
کمال پختگی اور حسنِ سخن کا مظہر ہے
اللہ کریم بطفیلِ رسولِ کریمؐ آپ کے زور قلم میں اضافہ فرمائے
آپ نے اس ناقص کے کلام کو پسند فرمایا
اس کرم نوازی پر بے حد ممنون ہوں
غلام رسول نور

0