آیا جو حسیں یادوں کا سیلاب بہت ہے
چہرے سے وہ لگتا ہے کہ شاداب بہت ہے
ہم جس کو سمجھتے رہے دنیا کی حقیقت
اس خواب کے پیچھے کوئی غرقاب بہت ہے
اک عمر جسے ڈھونڈتے پھرتے رہے باہر
وہ شخص تو دل میں مرے نایاب بہت ہے
ہارے بھی تو ہم جیت گئے تیری محبت
اس کھیل میں نقصان بھی کمیاب بہت ہے
ہر شخص ہے اپنے ہی تعارف میں مگن یاں
ہر کوئی بساط اپنی میں سیراب بہت ہے
کیا راز ہے مٹی میں بھی خوشبو ہے مسلسل
اس خاک کے سینے میں تب و تاب بہت ہے
ہم نے تو چراغوں کو ہواؤں میں جلایا
پروانوں کا دل شہر میں خوں ناب بہت ہے
طارق اسے الفاظ میں ڈھالیں بھی تو کیسے
سننے کو تو احساس کا مضراب بہت ہے

0
3