خاک میں مل کے شجر جاتے ہیں
لوگ کس دیس سفر جاتے ہیں
کون لائے گا پلٹ کر ان کو
جو مسافر بھی اُدھر جاتے ہیں
موت کی گود میں سوتے ہیں جو
چاند تارے بھی اتر جاتے ہیں
ہم تو بس راہ تکا کرتے ہیں
جانے والے تو گزر جاتے ہیں
در و دیوار ہی روتے ہیں یہاں
اہلِ خانہ تو بکھر جاتے ہیں
زندگی چھوڑ کے تنہا ہم کو
سانس کے زاویے مر جاتے ہیں
کوئی آواز نہیں آتی ریاض
اہلِ دل جانِ جگر جاتے ہیں

0
1