جو قیس کر گیا یعنی وہ کام کر بیٹھے
کسی کے عشق میں خود کو غلام کر بیٹھے
بچا کے رکھا تھا اب تک جسے زمانے سے
وہ دل بھی تیری محبت کے نام کر بیٹھے
ہے اس میں کتنی صداقت بیان کر دے گا
بس آئینے سے کبھی وہ کلام کر بیٹھے
تماش گاہ نہیں یہ ادب کی محفل ہے
یہاں جو بیٹھے تو پھر دل کو تھام کر بیٹھے
نہیں ہے شیخ کا دربار سے تعلق گر
کیوں بادشاہ کو جھک کر سلام کر بیٹھے
شکست کھائی ہے خرگوش کی طرح ہم نے
برا کیا جو سفر میں قیام کر بیٹھے
ہر ایک شخص کو دل کا پتہ نہیں دینا
خطا کریں گے اگر اذن عام کر بیٹھے

0
1