| دل میں ارماں دیے بن کے جلتے رہے |
| موم تھے وعدے تیرے پگھلتے رہے |
| دل تو ہر زخم پے تلملاتا رہا |
| ہم دلاسوں پہ تیرے بہلتے رہے |
| رات بھر یاد کے سائے ہمراہ تھے |
| ہم ترے درد میں ہی بھٹکتے رہے |
| جب بھی چاہا ترا نقش دل سے مٹے |
| حال میں رنگ ماضی کے گھلتے رہے |
| دل کو جب جب حقیقت پہ مائل کیا |
| خواب پلکوں پہ آ کے مچلتے رہے |
| لوگ موسم کی صورت بدلتے تھے رنگ |
| ہم وفا کے ہی سانچے میں ڈھلتے رہے |
| ٹھوکریں تیرے کوچے میں کھائیں بہت |
| عزم کا تھا سہارا ، سنبھلتے رہے |
| راہ و منزل تو کوئی نظر میں نہ تھی |
| تیرے نقشِ قدم پر ہی چلتے رہے |
| اسکی محفل میں چپ چاب بیٹھے رہے |
| آئے خلوت میں تو اشک بہتے رہے |
| ہم مقدس سمجھتے تھے جس عہد کو |
| لوگ عہدِ محبت سے پھرتے رہے |
| وقت پتھر بچھاتا رہا ہر قدم |
| کھا کے ٹھوکر حسَن ہم سنبھلتے رہے |
معلومات