کیوں وہ جمہوریت کا دوانہ ہوا
امن دیکھے بھی جس کو زمانہ ہوا
حکمراں کو میسر ہیں عیاشیاں
دور مفلس سے ہے آب و دانہ ہوا
ظلم سہ کر بھی کہتے ہیں "سب ٹھیک ہے"
فہم ان مفلسوں سے روانہ ہوا
روٹھتا جا رہا ہے شجر چین کا
پھل تو کیا، اب تو سایہ فسانہ ہوا
دیس میں کام ہم نے کیا کچھ نہیں
جو تھا پہلے کا وہ بھی پرانا ہوا
منتظر ہے بہاروں کا میرا چمن
مستقل جو خزاں کا ٹھکانہ ہوا
ہم تجھے یاد کرتے ہوئے رو دیے
دل کا موسم کبھی گر سہانا ہوا
جو مرے ساتھ گزرے ہیں لمحے، انہیں
یاد کرنا تو جب مسکرانا ہوا

0