| اڑان جن کی فلک پار تک نہیں جاتی |
| نگاہ ان کی درِ یار تک نہیں جاتی |
| کوئی حصار تمنا کو روک لیتا ہے |
| حدودِ عشق سے یہ پار تک نہیں جاتی |
| ذرا زیادہ ہی محتاط ہے یہ تہمتِ عشق |
| شریف شخص کی دستار تک نہیں جاتی |
| کوئی بھی موت کی دستک کو سن نہیں پاتا |
| توجہ موت کے آثار تک نہیں جاتی |
| بتا رہے ہو ستاروں کا حال کیا ہم کو |
| تری نظر پسِ دیوار تک نہیں جاتی |
| نہ جانے لوگ اسے دام کس کے دیتے ہیں |
| کوئی بھی چیز خریدار تک نہیں جاتی |
معلومات