| سر کٹا کر بھی ستم کا راستہ ہم روک لیں |
| اب یزیدِ وقت کے ترکش کا ہر دم روک لیں |
| خاک پر جو ہے لکھی تحریر بدلے گی ضرور |
| کب تلک وہ روشنی کا بابِ محکم روک لیں |
| چھین لائے گی ہواؤں سے بشارت، قوم اب |
| حاکمِ بیداد کیسے شورِ پرچم روک لیں |
| تنگ دستی پر ہماری وار کرنے والے سُن! |
| ہم وہی ہیں جو سمندر میں بھی قلزم روک لیں |
| ظلم کی برسات سے شعلے نہیں بجھنے لگے |
| کب بھلا جلتے چراغوں کو یہ شبنم روک لیں |
| فیصلہ اب دار پر ہوگا فریب و صدق کا |
| اہلِ حق کے پاؤں کب یہ اہلِ شاتم روک لیں |
| صبر جب بنتا ہے طوفانِ تلاطم، دیکھنا |
| پھر وہ دن آئے کہ ہم نفرت کے پرچم روک لیں |
معلومات