| جو میرے دل میں ہوئی تمہاری ہی نغمہ کاری تو میں تمہارا |
| ہوئی جو جذبوں میں شامل اب کے یہ خاکساری تو میں تمہارا |
| قبول ہے جو تمہاری آنکھوں میں قید ہونا ہے مجھ کو جاناں |
| رہی جو مجھ تک ہی حد تمہاری یہ پردہ داری تو میں تمہارا |
| کلام چھوڑو، پیام چھوڑو، عمل کی راہوں پہ آ گیا ہوں |
| اٹھا لی میں نے جو سر پہ اب کے یہ ذمہ داری تو میں تمہارا |
| محبتوں کے نصاب میں بس تمہارا چہرہ ہی سامنے ہے |
| جو تم نے کر لی ہے پیار میں یہ اجارہ داری تو میں تمہارا |
| انا کی بازی میں تم کو جیتوں، یہ آرزو اب نہیں رہی ہے |
| شکست کھا کر بھی جیت لوں گا جو ضد تمہاری تو میں تمہارا |
| فریب و مکر و ریا کی باتیں مرے قبیلے میں کب رہی ہیں |
| ثبوت دے گی یہ میری تم سے جو رازداری تو میں تمہارا |
| جو عادلؔ اس نے دکھائی مجھ کو وفا کی خوشبو بھری رفاقت |
| تو حرفِ آخر ہے میرا جاناں کہ میں تمہاری تو میں تمہارا |
معلومات