| بند دریچے مرے خوابوں میں ہی کھلتے کیوں ہیں |
| ان سے ہر رات نئے سائے نکلتے کیوں ہیں |
| ہم نے مٹی میں کئی نام چھپا رکھے تھے |
| بارش آتی ہے تو یہ حرف نکلتے کیوں ہیں |
| ہم نے آواز کو دیوار میں چنوا تو دیا |
| رات ہوتے ہی وہی لفظ مچلتے کیوں ہیں |
| جو تعلق کسی عنوان کا محتاج نہیں |
| نام دیتے ہی تعلق وہ بدلتے کیوں ہیں |
| ایک خواہش کو بہت دور رکھا تھا ہم نے |
| اس کے موسم مرے اندر ہی بدلتے کیوں ہیں |
| ہم نے آئینے سے کچھ پوچھ لیا تھا شاہدؔ |
| اب کئی عکس مرے ساتھ ہی چلتے کیوں ہیں |
معلومات