تیری گلی کی خاک سے نسبت قبول ہے
تجھ سے ملی محبت و نفرت قبول ہے
۔
کب عاشقوں پہ تھا اثرِ طعنۂ جہاں
روزِ ازل سے ان کو مذمت قبول ہے
۔
پل پل جلا رہی ہے جو خونِ جگر مرا
اس نارِ عشق کی مجھے حدّت قبول ہے
۔
جس دم ہو میرے ساتھ مرا ہمسفر صنم
کل زندگی کے بدلے وہ ساعت قبول ہے
۔
ذم مثلِ جانِ واحدہ اک دوجے میں رہیں
کیا اے صنم تمھیں بھی یہ وحدت قبول ہے
۔
آئے کبھی وہ دن بھی مدثر کہ وہ کہے
ہاں با خدا مجھے تری نسبت قبول ہے

0
68