اے خدائے دو جہاں اے مالکِ روزِ جزا
ذات تیری ہے بڑی اور نام ہے سب سے جدا
زخم ہیں روح و بدن پر، دیکھ میرے حال کو
کچھ نہیں، بس اس وطن سے پیار کی ہے یہ سزا
خون مٹی ہو گیا ہے مَیَّتیں پامال ہیں
پھر بھی جانے ہم پہ کیوں یہ ٹیگ ہے غدار کا
خون سے سینچی ہمارے ہی بڑوں نے یہ زمیں
ہم نے جانیں دی ہیں اس مٹی کی الفت میں سدا
عشق پاکستان کا شامل ہے اپنے خون میں
ہم وفاداری کی ان سے کیوں سند لیں گے بھلا
دیس کے قانون کو مولا بدل انصاف سے
جنگلوں کو بستیوں میں تو نے بدلا ہے خدا
عشق کی منزل تلک جو رہنمائی کر سکے
اب عطا کر دے ہمیں مولا وہ مخلص رہنما

0
2