| ہم اپنے آپ سے کب کے جدا ہوئے ہوں گے |
| کسی کے ہونے کی خاطر فنا ہوئے ہوں گے |
| وہ جن کو ہم نے محبت کا فلسفہ سمجھا |
| وہ چند لفظ تھے، آخر ہوا ہوئے ہوں گے |
| یہ اور بات کہ ہم نے گلہ کیا ہی نہیں |
| تمہارے ظلم بھی شاید روا ہوئے ہوں گے |
| یہ کس نے کہہ دیا آسان تھا سکوں ملنا |
| ہم اپنے درد سے شاید جدا ہوئے ہوں گے |
| عجیب لوگ تھے، سچ بولنے کی ضد میں رہے |
| سو اپنے شہر میں سب سے خفا ہوئے ہوں گے |
| خدا کو ڈھونڈنے نکلے تھے اپنے اندر ہم |
| ہزار وہم وہاں پر خدا ہوئے ہوں گے |
| ہمارے بعد جو محفل میں قہقہے گونجے |
| ہم اہلِ غم بھی کسی کام آ ہوئے ہوں گے |
| میاں، یہ عمر بھی کیا خوب رائیگاں گزری |
| نجانے خود سے کبھی ہم نوا ہوئے ہوں گے |
معلومات