یہ دل کسی کا طلب گار بھی نہیں لگتا
مگر کسی سے یہ بیزار بھی نہیں لگتا
میں اپنے آپ سے ملنے نکل تو آیا ہوں
ابھی سفر مرا دشوار بھی نہیں لگتا
جو روشنی مرے دل میں ہے نور کی صورت
انہیں وہ حلقۂ انوار بھی نہیں لگتا
ہر ایک زخم کی اپنی زباں ہے دنیا میں
کسی کے درد کا اظہار بھی نہیں لگتا
کسی کے سامنے جھکنا بھی اک ہنر ہے مگر
کوئی کوئی تو وفادار بھی نہیں لگتا
جو سچ کے ساتھ کھڑا ہو اگرچہ ہو تنہا
وہ اپنے عہد کا غدّار بھی نہیں لگتا
یہ اور بات کہ خاموش ہوں زمانے میں
مرا سکوت نگوں سار بھی نہیں لگتا
سخن کو اپنے ذرا تم سنبھال کر رکھنا
ہر ایک لفظ گو شہکار بھی نہیں لگتا
جو شعر کہتا ہے طارِق وہ پہلے سو چتا ہے
کوئی سخن اسے بیکار بھی نہیں لگتا

0
1