Circle Image

سید ہادی علی

@hadiali05

چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہاری یاد کے بوجھل، تھکے لمحوں کی دہلیزوں پہ
جو برسوں پڑی ہے گردِ ہجراں کی اداسی سی
اُسے خاموش ہاتھوں سے ذرا ہلکا سا کرتے ہیں
وہی بوسیدہ وعدے جو زمانوں سے بکھر بیٹھے

19
شکستِ شب کا نوید نامہ، طلوعِ امکاں لہو کے قطرے
مٹا رہے ہیں فریبِ سلطاں، غرورِ ایواں لہو کے قطرے
نشانِ سوزِ نہاں، دلیلِ شکستِ ایواں لہو کے قطرے
نوائے محشر، صدائے بیدادِ اہلِ عصراں لہو کے قطرے
شکستہ تیغوں کی آبرو ہیں، جلالِ میداں لہو کے قطرے
سپہرِ ظلمت پہ بن کے اُبھرے شہابِ تاباں لہو کے قطرے

33
ہیں کرم کی انتہا مولا علیؑ
صاحبِ جود و سخا مولا علیؑ
جب بھی ٹوٹا حوصلوں کا حوصلہ
حوصلوں نے تب کہا مولاعلیؑ
آپؐ کے شانوں پہ چڑھ توڑے صنم
رتبوں کی ہیں انتہا مولا علیؑ

24
"وہ ماہرِ زبان و بیاں ماہرِ سخن"
ہر دل عزیز ہے وہی ہر دل کی ہے لگن
انداز ہے کمال تو گفتار پر کشش
کھلتی ہے اس جہان پہ لہجے کی بانکپن
کرتا ہے اپنے علم سے روشن جہان کو
وہ میرِ کاروان وہی میرِ انجمن

52
عجب پاگل سی لڑکی ہے،
کبھی ہنستی، کبھی روتی،
کبھی خاموش رہتی ہے،
کبھی باتوں میں وہ کہتی،
کہ جیسے دل کے جنگل میں
کوئی معصوم تتلی ہو۔

149
شاعرِ عصر کی تخلیق کا انداز ہے اور
یہ بھی اک رنگِ تغیر کا فسوں ہے یوں ہے

82
وہ مہرِ علم و حکمت و تدبیر، ہے قدیرؒ
آغوشِ علم و فن کا قلم گیر، ہے قدیرؒ
میدانِ عقل و فکر کا فرزانۂ جلال
اک فلسفہ نما، شہِ تعبیر، ہے قدیرؒ
وہ نوحہ خواںِ زخمِ وطن، محسنِ جہاں
جو بن گیا ہے قوم کا دلگیر، ہے قدیرؒ

117
چہرہ ہے کہ تفسیرِ تجلی کی عبارت
آنکھیں ہیں کہ قرآن کے اسرارِ طہارت
ماتھا ہے کہ اللہ کی وحدت کا اشارہ
لب ہیں کہ نزولِ سخنِ حق کی صدارت
اک نام ترے ذکر سے آباد زمانہ
اک ذکر ترے دم سے ہے تسکینِ فسانہ

66
گزرتی ہے اب تو شبِ ہجر کچھ یوں
کہ لیتے ہیں عشاق خلوت میں سیلفی

80
سینے میں جلے تھے خواب کئی
ماتم کی صدا تھی، رات بھری
وہ جسم پڑے تھے مقتل میں
اور جشن ہوا
چل ہاتھ ملا
توپوں کی صدا میں مر گئے گل

0
52
تو روک سکے گا نہ کبھی موجِ رواں کو
ہم اہلِ وفا سیلِ قیامت بھی بہا دیں
آئے گا اگر حرف کوئی نامِ وطن پر
پھر خون سے ہم ریت پہ کربل بھی سجا دیں

69
موجوں کی داستاں کو نگاہوں سے پڑھ گیا
اک فرد تھا، سکوتِ سمندر سے ہم کلام

3
479
دستِ فقیر میں ہے ضیائے فلک کا راز
مزدور، سرمہ سازِ نگاہِ شگفتہ ساز
مٹی سے جگمگاتے ستارے بنا گیا
وہ خاک پوش، صاحبِ لوح و قلم کا ناز

155
دریا کو جو روکے گا وہ دریا میں بہےگا
تاریخ کا ہر حرفِ گواہ بول رہا ہے

67
لہو میں ڈوبتے بچے، جلے کتبے، جفا کا راج
فغاں میں ڈھل گئی مسجد، ندا میں کھو گیا اعراج
زمیں پہ کربلا ہر صبح بنتی ہے نئی صورت
خدا کی بستیوں پر ہے عدو کا خنجرِ معراج

3
149
کرتی ہے قضا وار بھی چھپ چھپ کے علیؑ پر
ہمت ہی نہیں اس میں کہ دیکھے رخِ حیدر

66
عجیب رت کے عجیب دن ہیں
نہ صبح روشن، نہ شام باقی
نہ خواب پیاسے، نہ نیند گہری
نہ چاند چمکے، نہ رنگ بولے
کبھی ہواؤں میں تیرتے ہیں
سراب لمحے، سرود جیسے

90
جو نفرت کو مٹاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
محبت جو سکھاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
کہ پڑھ لینا ، سنا دینا ہنر سب کا ہے اے لوگو
جو ذہن و دل پہ چھاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں
قلم سے تخت چھینیں یا کہ تقدیریں بنا ڈالیں
جو دنیا کو ہلاتا ہے اسے استاد کہتے ہیں

64
کچھ ہو خزاں بہار لگا ئیں گے قہقہے
کر کر کے غم شمار لگا ئیں گے قہقہے
پیغام لاۓ گا جو فر شتہ بھی موت کا
تک کر اسے ہزار لگا ئیں گے قہقہے
غلبہ دکھوں کا ہو کیا اداسی میں کاٹ دیں
دل ہوگا بے قرار لگا ئیں گے قہقہے

122
نیند آنکھوں میں ناآئے دل میں ناآئے خوشی
اب تو ہر سو خاک ہے یاں بھاڑ میں جا ئے خوشی
لٹ گئے سارے اجالے چین رخصت ہو گیا
بعد تیرے اس شہر میں ہم کو نا بھائے خوشی
پھول وہ معصوم تھے جن سے جہاں آباد تھا
قتل کرکے ان کو ظالم کہتا ہے ہا ئے خوشی

55
مفلس بھوکا ننھا بچہ
اک روٹی لے کر بھا گا ہوٹل سے
سب کے سب ہوٹل والے
اسکے پیچھے پیچھے
میں نے سوچا
اربوں ڈالر چوری کرنے والے

67
آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان ہے
اس پہ تو قربان میری جان ہے

68