شب میں ہجر و وصال رہتے ہیں
دل میں الجھے سوال رہتے ہیں
جسم کو گو کہ اک عداوت ہے
روح کو بھی ملال رہتے ہیں
کس کو حاصل عروج ہستی کا
اس کو خوفٍ زوال رہتے ہیں
جنتیں کب ملی ہیں رندوں کو
من میں غالب خیال رہتے ہیں
فیض بھی کب ملا ہے عاشق کو
جھومتے ، مست حال رہتے ہیں
ہم بنائے گئے ہیں باتوں سے
چاک کے کچھ کمال رہتے ہیں
توڑ دیوار دی ہے رشتوں کی
تیری زلفوں کے جال رہتے ہیں
گردشیں ساتھ ہیں زمانے کی
سوچ میں ماہ و سال رہتے ہیں
ہے خدا بھی کہیں پہ وہ شاہد
ڈر میں جس کے نڈھال رہتے ہیں

0
1