اجالا ہے نورِ صوفیا کا، چراغ احمد کے جل رہے ہیں
اندھیرا ہر گز نا ہو سکے گا، چراغ احمد کے جل رہے ہیں
لہو جگر کا پِلا کے احمد دِیَا ہیں دل کا جلا کے احمد
جلا کے رکّھے تھے جن کو آقا چراغ احمد کے جل رہے ہیں
ادھر یہ بیٹے سے چل رہا ہے ادھر مریدوں کا سلسلہ ہے
یہاں جو آیا وہ نور پایا چراغ احمد کے جل رہے ہیں
چراغ نورانی جل رہے ہیں یہ دن ہو یا رات چل رہے ہیں
ہوا جو نوری وہ بول اٹّھا چراغ احمد کے جل رہے ہیں
ذکیؔ تو خود کو جلائے رکھنا چراغ خود میں سمائے رکھنا
جو تجھ کو دیکھے گا وہ کہے گا چراغ احمد کے جل رہے ہیں

0
1