| براے چشم جو ابرک فقط محبت ہو |
| خیال و دید کی ٹھنڈک فقط محبت ہو |
| خداے کل کی مشیت سے عین ممکن ہے |
| کہ آسماں سے زمیں تک فقط محبت ہو |
| اک ایسا شہر بسانے کی آرزو ہے مجھے |
| جہاں پہ لوگوں کا مسلک فقط محبت ہو |
| بغیر اس کے نہ ہو گا یہ دل مکاں آباد |
| براے روشنی دیپک فقط محبت ہو |
| ہمیں قبول ہے بازارِ عشق میں سودا |
| مگر یہ شرط ہے گاہک فقط محبت ہو |
| کسی کو بغض و عداوت نظر نہیں آئے |
| اگر نہ دل میں ہو چشمک ، فقط محبت ہو |
| اگرچہ مرگ بھی آتی ہے ناگہاں آسیؔ |
| دعا یہ ہے کہ اچانک فقط محبت ہو |
| قمرآسیؔ |
معلومات