| غزل (رباعی کے وزن میں ) |
| دشتِ ہجر و وصال سے آ گے ہے |
| رکنا مرا ماہ و سال سے آگے ہے |
| قیدِ نظارہ ، آ نکھ اور یہ مشکل |
| راز الفت جمال سے آ گے ہے |
| وہ بھی گم ہے جو میرا ماضی تھا کبھی |
| مٹ جائے گا جو حال سے آ گے ہے |
| اک یہ دنیا جو خواب کی حد تک ہے |
| اک خواہش جو خیال سے آ گے ہے |
| حرف حق اور جبر کے موسم میں |
| لکھتے رہنا کمال سے آ گے ہے |
| مائل بہ فنا ہے رقصِ ماہ و انجم |
| راز ہستی دھمال سے آ گے ہے |
| تیری گفتار میں بھی جادو ہے مگر |
| تیری چپ سر سے ، تال سے آگے ہے |
| اک بستی سبز بیلوں اور پھولوں کی |
| جو رنج و غم و ملال سے آگے ہے |
| انجام ہے گل کا خاک ہو جانا حبیب |
| اور خوشبو ماہ و سال سے گے ہے |
معلومات